EN हिंदी
نہ لگا لے گئے جہاں دل کو | شیح شیری
na laga le gae jahan dil ko

غزل

نہ لگا لے گئے جہاں دل کو

میر اثر

;

نہ لگا لے گئے جہاں دل کو
آہ لے جائیے کہاں دل کو

مجھ سے لے تو چلے ہو دیکھو پر
توڑیو مت کہیں میاں دل کو

آزما اور جس میں چاہے تو
صبر میں کر نہ امتحاں دل کو

یوں تو کیا بات ہے تری لیکن
وہ نہ نکلا جو تھا گماں دل کو

رکھ نہ تو اب دریغ نیم نگاہ
مار مت دیکھ نیم جاں دل کو

آہ کیا کیجے یاں بنایا ہے
دل گرفتہ ہی غنچہ ساں دل کو

مر گیا پس گیا نہ کی پر آہ
آفریں ایسے بے زباں دل کو

دشمنی تو ہی اس سے کرتا ہے
دوست رکھتا ہے اک جہاں دل کو

مہربانی تو کی نہ ظاہر میں
رکھئے بارے تو مہرباں دل کو

لیجئے گا نہ لیجئے گا پھر
دیکھیے تو سہی بتاں دل کو

آزمانا کہیں نہ سختی سے
دیکھیو میرے ناتواں دل کو

تو بھی جی میں اسے جگہ دیجو
منزلت تھی اثرؔ کے ہاں دل کو