EN हिंदी
نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرض | شیح شیری
na kunisht o kalisa se kaam hamein dar-e-dair na bait-e-haram se gharaz

غزل

نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرض

بیدم شاہ وارثی

;

نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرض
کہ ازل سے ہمارے سجدوں کو رہی تیرے ہی نقش قدم سے غرض

جو تو مہر ہے تو ذرہ ہم ہیں تو بحر ہے تو قطرہ ہم ہیں
تو صورت ہے ہم آئینہ ہمیں تجھ سے غرض تجھے ہم سے غرض

نہ نشاط وصال نہ ہجر کا غم نہ خیال بہار نہ خوف خزاں
نہ سقر کا خطر ہے نہ شوق ارم نہ ستم سے حذر نہ کرم سے غرض

رکھا کوچۂ عشق میں جس نے قدم ہوا حضرت عشق کا جس پہ کرم
اسے آپ سے بھی سروکار نہیں جو غرض ہے تو اپنے صنم سے غرض

تری یاد ہو اور دل بیدمؔ ہو ترا درد ہو اور دل بیدمؔ ہو
بیدمؔ کو رہے ترے غم سے غرض ترے غم کو رہے بیدمؔ سے غرض