EN हिंदी
نہ کوئی دن نہ کوئی رات انتظار کی ہے | شیح شیری
na koi din na koi raat intizar ki hai

غزل

نہ کوئی دن نہ کوئی رات انتظار کی ہے

ایوب خاور

;

نہ کوئی دن نہ کوئی رات انتظار کی ہے
کہ یہ جدائی بھروسے کی اعتبار کی ہے

جو خاک اڑی ہے مرے دکھ سمیٹ لیں گے اسے
جو بچھ گئی سر منظر وہ رہ گزار کی ہے

وہ وصل ہو کہ کھلے آئینے پہ عکس جمال
یہ آرزو ہے مگر بات اختیار کی ہے

اسی کا نام ہے وحشت سرائے جاں میں چراغ
اسی کے لمس میں دھڑکن دل فگار کی ہے

یہ کون تھا جو سر بام خود کو بھول گیا
یہ کس کا رقص تھا گردش یہ کس غبار کی ہے

یہ کون مجھ میں ہرے موسموں اترتا ہے
یہ کیسے رنگ ہیں خوشبو یہ کس دیار کی ہے

بجھانے والے نے خاورؔ بجھا دیا ہے چراغ
یہی ٹھہرنے کی ساعت یہی مزار کی ہے