EN हिंदी
نہ کسی کو فکر منزل نہ کہیں سراغ جادہ | شیح شیری
na kisi ko fikr-e-manzil na kahin suragh-e-jada

غزل

نہ کسی کو فکر منزل نہ کہیں سراغ جادہ

سرور بارہ بنکوی

;

نہ کسی کو فکر منزل نہ کہیں سراغ جادہ
یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارادہ

یہی لوگ ہیں ازل سے جو فریب دے رہے ہیں
کبھی ڈال کر نقابیں کبھی اوڑھ کر لبادہ

میرے روز و شب یہی ہیں کہ مجھی تک آ رہی ہیں
تیرے حسن کی ضیائیں کبھی کم کبھی زیادہ

سر انجمن تغافل کا صلہ بھی دے گئی ہے
وہ نگہ جو درحقیقت تھی نگاہ سے زیادہ

ہو برائے شام ہجراں لب ناز سے فروزاں
کوئی ایک شمع پیماں کوئی اک چراغ وعدہ