EN हिंदी
نہ خدا ہے نہ ناخدا ہے کوئی | شیح شیری
na KHuda hai na naKHuda hai koi

غزل

نہ خدا ہے نہ ناخدا ہے کوئی

شاہد عشقی

;

نہ خدا ہے نہ ناخدا ہے کوئی
زندگی گویا سانحہ ہے کوئی

نہ تو بے قفل ہے دریچۂ ذہن
نہ در دل کھلا ہوا ہے کوئی

نہ مزا گمرہی میں ملتا ہے
نہ سنبھلنے کا راستہ ہے کوئی

میں کہ تنہا تھا اب بھی تنہا ہوں
پھر بھی مجھ سے بچھڑ گیا ہے کوئی

ذات مت دیکھ کرب ذات کو دیکھ
کیسے اندر سے ٹوٹتا ہے کوئی

مبتلا روح کے عذاب میں ہوں
کب سے دل کو کھرچ رہا ہے کوئی

جانے کس صبح کی تمنا میں
رات بھر شمع ساں جلا ہے کوئی

فرصت زندگی بہت کم ہے
اور بہت دیر آشنا ہے کوئی

تم بھی سچے ہو میں بھی سچا ہوں
کب یہاں جھوٹ بولتا ہے کوئی