EN हिंदी
نہ کہہ حق میں بزرگوں کی کڑی بات | شیح شیری
na kah haq mein buzurgon ki kaDi baat

غزل

نہ کہہ حق میں بزرگوں کی کڑی بات

امداد علی بحر

;

نہ کہہ حق میں بزرگوں کی کڑی بات
کہیں گے لوگ چھوٹا منہ بڑی بات

کہے اک بات پھولے سو شگوفے
شریروں نے بنائی پھلجھڑی بات

متانت ہے بہت کم بولتی میں
خموشی دوپہر ہو دو گھڑی بات

مجھے بھاتا ہے ہلکانا تمہارا
دہن گل کی کلی ہے گل جھڑی بات

بندھے مضمون پر کھولو نہ منہ بحرؔ
مزا دیتی نہیں کانوں پڑی بات