EN हिंदी
نہ جانے کون سی غفلت میں ہوں میں | شیح شیری
na jaane kaun si ghaflat mein hun main

غزل

نہ جانے کون سی غفلت میں ہوں میں

امت شرما میت

;

نہ جانے کون سی غفلت میں ہوں میں
عجب سے درد کی شدت میں ہوں میں

چلو پھر کل ملوں گا یار تم سے
ابھی تو عشق کی میت میں ہوں میں

دکھا تھا خواب میں روتا ہوا دل
کہوں کیا اب تلک دہشت میں ہوں میں

مجھے تم ڈھونڈھتے پھرتے کہاں ہو
تمہارے پیار کی لذت میں ہوں میں

ہمیں بچھڑے تو اک عرصہ ہوا پر
سنا ہے آج تک عادت میں ہوں میں

کسی جادو یا ٹونے کا اثر ہے
سنو کچھ روز سے دقت میں ہوں میں

تمہیں کچھ میتؔ سے کہنا ہے شاید
چلے آؤ ابھی فرصت میں ہوں میں