EN हिंदी
نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں | شیح شیری
na jaane kal hon kahan sath ab hawa ke hain

غزل

نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں

راجیندر منچندا بانی

;

نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں
کہ ہم پرندے مقامات گم شدہ کے ہیں

ستم یہ دیکھ کہ خود معتبر نہیں وہ نگاہ
کہ جس نگاہ میں ہم مستحق سزا کے ہیں

قدم قدم پہ کہے ہے یہ جی کہ لوٹ چلو
تمام مرحلے دشوار انتہا کے ہیں

فصیل شب سے عجب جھانکتے ہوئے چہرے
کرن کرن کے ہیں پیاسے ہوا ہوا کے ہیں

کہیں سے آئی ہے بانیؔ کوئی خبر شاید
یہ تیرتے ہوئے سایے کسی صدا کے ہیں