EN हिंदी
نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہے | شیح شیری
na hui saf tabiat hi to hai

غزل

نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہے

مرزا آسمان جاہ انجم

;

نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہے
رہ گئی دل میں کدورت ہی تو ہے

بھا گئیں دل کو ادائیں ان کی
کھب گئی آنکھوں میں صورت ہی تو ہے

میری میت پہ نہ آئے نہ سہی
نہ ہوئی آپ کو فرصت ہی تو ہے

نہیں کرتا میں جفا کا شکوہ
آپ کیا کیجئے عادت ہی تو ہے

نہیں آتا کسی پہلو آرام
نہیں کٹتی شب فرقت ہی تو ہے

نکلی قاتل نہ ترے تیر کے ساتھ
دل ہی میں رہ گئی حسرت ہی تو ہے

مجھ سے عاصی پہ یہ بخشش یہ کرم
بندہ پرور تری رحمت ہی تو ہے

نہ ٹلی سر سے بلائے فرقت
پڑ گئی جان پہ آفت ہی تو ہے

ہم نے پھیرا نہ دل اپنا تجھ سے
جان دے بیٹھے مروت ہی تو ہے

حشر برپا ہے تری قامت سے
یہ بھی انداز قیامت ہی تو ہے

نہ رہا ضبط کا یارا انجمؔ
نہ چھپی ہم سے محبت ہی تو ہے