EN हिंदी
نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا | شیح شیری
na fasle koi rakhna na qurbaten rakhna

غزل

نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا

رضی اختر شوق

;

نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا
بس اب بقدر غزل اس سے نسبتیں رکھنا

یہ کس تعلق خاطر کا دے رہا ہے سراغ
کبھی کبھی ترا مجھ سے شکایتیں رکھنا

میں اپنے سچ کو چھپاؤں تو روح شور مچائے
عذاب ہو گیا میرا سماعتیں رکھنا

فضائے شہر میں اب کے بڑی کدورت ہے
بہت سنبھال کے اپنی محبتیں رکھنا

ہم اہل فن کو بھی گمنامیاں تھیں راس بہت
ہوا ہے باعث رسوائی شہرتیں رکھنا

قصیدہ خوانی کرو اور موج اڑاؤ کہ شوقؔ
تمام کار زیاں ہے صداقتیں رکھنا