EN हिंदी
نہ احتجاج نہ آوارگی میں دیکھ مجھے | شیح شیری
na ehtijaj na aawargi mein dekh mujhe

غزل

نہ احتجاج نہ آوارگی میں دیکھ مجھے

اسعد بدایونی

;

نہ احتجاج نہ آوارگی میں دیکھ مجھے
جو ہو سکے تو مری روشنی میں دیکھ مجھے

گل ہوس بھی ہے شاخ وصال کا حصہ
چراغ لالہ کی تازہ کلی میں دیکھ مجھے

وضاحتوں سے تو کچھ بھی سمجھ نہ پائے گا
کبھی غبار کبھی تیرگی میں دیکھ مجھے

فضائے یاد میں تبدیلیاں نہیں ہوتیں
جدید شخص پرانی گلی میں دیکھ مجھے

ستارہ تاب زمانے کی یادگار ہوں میں
کسی ملال نہ شرمندگی میں دیکھ مجھے

میں ایک بوند سر نوک خار صحرا ہوں
طلوع صبح دم آخری میں دیکھ مجھے

مرے بیان کے جاہ و جلال پر مت جا
مرے خیال کی پس ماندگی میں دیکھ مجھے