نہ دیا اس کوں یا دیا قاصد
سچ بتا نامہ کیا کیا قاصد
نہ پھرا آہ کوئی لے کے جواب
جو گیا واں سو گم ہوا قاصد
آج آوے گا یا نہ آوے گا
میرے گھر میں وہ دل ربا قاصد
دل کو ہے سخت انتظار جواب
کہہ شتابی سے کیا کہا قاصد
کوچۂ یار میں مرے زنہار
جائیو مت برہنہ پا قاصد
خار مژگان کشتگان وفا
واں ہیں افتادہ جا بہ جا قاصد
نامۂ شوق کو مرے لے کر
یار کے پاس جب گیا قاصد
مہر کو خط کی دیکھ کہنے لگا
کون بیدارؔ ہے بتا قاصد
جس نے بھیجا ہے تیرے ہاتھ یہ خط
میں نہیں اس سے آشنا قاصد
غزل
نہ دیا اس کوں یا دیا قاصد
میر محمدی بیدار

