EN हिंदी
نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی | شیح شیری
na dahr mein na haram mein jabin jhuki hogi

غزل

نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی

فنا بلند شہری

;

نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی
تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہوگی

نگاہ یار مری سمت پھر اٹھی ہوگی
سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بے خودی ہوگی

نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تو لیکن
ترے بغیر بسر کیسے زندگی ہوگی

کسی طرح بھی پئیں ہم غرض ہے پینے سے
نہیں ہے جام تو آنکھوں سے مے کشی ہوگی

تمام ہوش کی دنیا نثار ہے اس پر
تری گلی میں جسے نیند آ گئی ہوگی

گزر ہی جائے گا دنیا سے بے طلب ہو کر
ترے خیال سے جس دل کو دوستی ہوگی

جمال یار پہ یوں جاں نثار کرتا ہوں
فنا کے بعد فناؔ گھر میں روشنی ہوگی