EN हिंदी
نہ آرزوئے جفا بہ قدم نکال کے چل | شیح شیری
na aarzu-e-jafa ba-qadam nikal ke chal

غزل

نہ آرزوئے جفا بہ قدم نکال کے چل

جاوید لکھنوی

;

نہ آرزوئے جفا بہ قدم نکال کے چل
پڑے ہیں راہ میں کچھ دل بھی دیکھ بھال کے چل

چلا جو حشر میں میں سن کے آمد جاناں
یہ اضطراب پکارا کہ دل سنبھال کے چل

ارے یہ حشر میں ہیں سینکڑوں ترے مشتاق
یہاں پہ ہم بھی ہیں راضی نقاب ڈال کے چل

عدم کا قصد ہے بحر جہاں سے گر جاویدؔ
حساب دار زمانہ کو دیکھ بھال کے چل