EN हिंदी
نہ آنکھیں سرخ رکھتے ہیں نہ چہرے زرد رکھتے ہیں | شیح شیری
na aankhen surKH rakhte hain na chehre zard rakhte hain

غزل

نہ آنکھیں سرخ رکھتے ہیں نہ چہرے زرد رکھتے ہیں

رام ریاض

;

نہ آنکھیں سرخ رکھتے ہیں نہ چہرے زرد رکھتے ہیں
یہ ظالم لوگ بھی انسانیت کا درد رکھتے ہیں

مجھے شک ہے کہ تم تیرہ شبوں میں کیسے نکلو گے
چٹانیں کاٹنے کا حوصلہ تو مرد رکھتے ہیں

محبت کرنے والوں کی تمہیں پہچان بتلاؤں
دلوں میں آگ کے با وصف سینہ سرد رکھتے ہیں

ہوا نے اہل صحرا کو عجب ملبوس بخشا ہے
سروں پر لوگ پگڑی کے بجائے گرد رکھتے ہیں

اسے دیکھا تو چہرہ ڈھانپ لو گے اپنے ہاتھوں سے
ہم اپنے ساتھیوں میں رامؔ ایسا فرد رکھتے ہیں