EN हिंदी
میاں کیا ہو گر ابروئے خم دار کو دیکھا | شیح شیری
myan kya ho gar abru-e-KHamdar ko dekha

غزل

میاں کیا ہو گر ابروئے خم دار کو دیکھا

عبدالرحمان احسان دہلوی

;

میاں کیا ہو گر ابروئے خم دار کو دیکھا
کیوں میری طرف دیکھ کے تلوار کو دیکھا

آنکھیں مری پھوٹیں تری آنکھوں کے بغیر آہ
گر میں نے کبھی نرگس بیمار کو دیکھا

دیکھے نہ مرے اشک مسلسل کبھی تم نے
اپنی ہی سدا موتیوں کے ہار کو دیکھا

اتوار کو آنا ترا معلوم کہ اک عمر
بے پیر ترے ہم نے ہی اطوار کو دیکھا

دیکھا نہ کبھو کوچۂ دل دار کو رنگیں
بس ہم نے بھی اس دیدۂ خوں بار کو دیکھا

اس میں بھی در اندازوں نے سو رخنے نکالے
احساںؔ نے جو اس رخنۂ دیوار کو دیکھا