EN हिंदी
مستمنداں کو ستایا نہ کرو | شیح شیری
mustamindan ko sataya na karo

غزل

مستمنداں کو ستایا نہ کرو

فائز دہلوی

;

مستمنداں کو ستایا نہ کرو
بات کو ہم سے درایا نہ کرو

دل شکنجے میں نہ ڈالو میرا
زلف کو گوندھ بنایا نہ کرو

حسن بے ساختہ بھاتا ہے مجھے
سرمہ انکھیاں میں لگایا نہ کرو

تم سے مجھ دل کو بہت ہے امید
مجھ سے مسکیں کو کڑھایا نہ کرو

بے دلاں سوں نہ پھرا دو مکھڑا
ہم سے تم آنکھ چرایا نہ کرو

مخلص اپنے کو نہ مارو ناحق
حق اخلاص بھلایا نہ کرو

عشق میں فائزؔ شیدا ممتاز
اس کوں سب ساتھ ملایا نہ کرو