EN हिंदी
مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گا | شیح شیری
musibat jis se zail ho rahi saman kar dega

غزل

مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گا

شاد عظیم آبادی

;

مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گا
نہ گھبرانا خدا سب مشکلیں آسان کر دے گا

خرابات جہاں میں کون ہے دل سوز ساقی سا
اگر ترچھٹ بھی دینا ہے تو تجھ کو چھان کر دے گا

قناعت کی بھی دولت ہو تو استغنا نہیں لازم
جسے تو نفع سمجھا ہے یہی نقصان کر دے گا

جگہ دل میں نہ دے شوق نموداری بری شے ہے
یہی چسکا تجھے برباد اے نادان کر دے گا

کہوں گا آج سے میں صاحب اعجاز ناصح کو
اگر میرے دل مضطر کا اطمینان کر دے گا

تمناؤں کی مہمانی تصور کے حوالے کر
کہ جو ساماں مناسب ہے وہی سامان کر دے گا

متاع بے بہا سے کم نہ جان اے چشم اشکوں کو
یہی رونا ترا خالی تری دوکان کر دے گا

کوئی گر سلطنت بھی دے تو واپس کر نہ لے اے دل
سبک ہر طرف تجھ کو غیر کا احسان کر دے گا

کہے دیتا ہوں قاتل لے خبر جاں باز کی اپنے
فنا شوق شہادت میں کسی دن جان کر دے گا

تری رو پوشیاں اے حسن کب بیکار جائیں گی
یہی پردہ عیاں عالم میں تیری شان کر دے گا

یقیں کر لے کہ خود وہ جلوہ گر پردے میں ہے ورنہ
یہی ظالم گماں تیرا تجھے حیران کر دے گا

غزل سے کیا مراد اے شادؔ ہے ارباب معنی کی
کسی دن تصفیہ اس کا مرا دیوان کر دے گا