EN हिंदी
منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سے | شیح شیری
munh banae hue phirta hai wo kal se humse

غزل

منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سے

جوشش عظیم آبادی

;

منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سے
کوئی آج اس کو ملا دے کسی کل سے ہم سے

نالہ و آہ و فغاں کیوں نہ ہوں ہم دم اپنے
دوستی عشق کو ہے روز ازل سے ہم سے

نالہ خاموش پھر آزردہ نہ ہو جائے کہیں
آج بولا ہے وہ کس رد و بدل سے ہم سے

خوف رکھتے ہیں تری کم نگہی کا ورنہ
یار ڈرتے ہیں کوئی تیغ اجل سے ہم سے

ؔجوشش اس عربدہ جو ترک ستمگار نے آج
آشتی کی ہے بڑی جنگ و جدل سے ہم سے