EN हिंदी
منہ اندھیرے تیری یادوں سے نکلنا ہے مجھے | شیح شیری
munh andhere teri yaadon se nikalna hai mujhe

غزل

منہ اندھیرے تیری یادوں سے نکلنا ہے مجھے

سوپنل تیواری

;

منہ اندھیرے تیری یادوں سے نکلنا ہے مجھے
اور پھر ماضی کا پیراہن بدلنا ہے مجھے

پربتوں پر صبح کی سی دھوپ ہوں میں ان دنوں
جانتا ہوں اب ڈھلانوں پر پھسلنا ہے مجھے

وار سے بچنا تو ہے ہی وار اک کرنا بھی ہے
اور ان کے بیچ ہی رک کر سنبھلنا ہے مجھے

مجھ پے ہی آ کر ٹکیں بے دار آنکھیں اس لیے
بن کے جگنو آس کا ہر رات جلنا ہے مجھے

اے مری مصروفیت مجھ کو ضرورت ہے تری
اک پرانے غم کا سر پھر سے کچلنا ہے مجھے

اک اداسی کا سمندر ہے مرے اندر کہیں
ہاں اسی میں شام کے سورج سا ڈھلنا ہے مجھے

میں کسی مفلس کا جی ہوں یوں نہیں تو یوں سہی
بس ذرا سی بات سے ہی تو بہلنا ہے مجھے

میں کوئی بت تو نہیں آتشؔ ملائم برف کا
آنچ سے اک دن مگر اپنی پگھلنا ہے مجھے