EN हिंदी
مجھی میں جیتا ہے سورج تمام ہونے تک | شیح شیری
mujhi mein jita hai suraj tamam hone tak

غزل

مجھی میں جیتا ہے سورج تمام ہونے تک

عین الدین عازم

;

مجھی میں جیتا ہے سورج تمام ہونے تک
میں اپنے جسم میں آتا ہوں شام ہونے تک

خبر ملی ہے مجھے آج اپنے ہونے کی
کہیں یہ جھوٹ نہ ہو جائے عام ہونے تک

کہاں یہ جرأت اظہار تھی کسی شے میں
سکوت شب سے مرے ہم کلام ہونے تک

یہ پختگی تھی غموں میں نہ دھڑکنوں میں ثبات
تمہارے درد کا دل میں قیام ہونے تک

یہ چاند تارے مری دسترس سے دور نہیں
کہ فاصلے ہیں مرے تیز گام ہونے تک

گزر رہے ہیں نظر سے نظر ملائے بغیر
ٹھہر بھی جائیے ایک ایک جام ہونے تک

دیئے بجھا دئے جاتے ہیں صبح تک عازمؔ
مرا حوالہ دیا اس نے نام ہونے تک