EN हिंदी
مجھے جس نے میرا پتا دیا وہ غم نہاں مرے ساتھ ہے | شیح شیری
mujhe jis ne mera pata diya wo gham-e-nihan mere sath hai

غزل

مجھے جس نے میرا پتا دیا وہ غم نہاں مرے ساتھ ہے

مبین مرزا

;

مجھے جس نے میرا پتا دیا وہ غم نہاں مرے ساتھ ہے
مری زندگی مری روشنی دل بے اماں مرے ساتھ ہے

مرا کارواں جو بچھڑ گیا مرے دل کا نقش بگڑ گیا
میں ہوں اک مسافر گم شدہ سو یہی فغاں مرے ساتھ ہے

اسی آرزو کی تڑپ لیے یونہی پھر رہا ہوں میں در بہ در
وہی خاک ہے مرے سر میں بھی وہی آسماں مرے ساتھ ہے

یہ جو آنکھ آج چھلک اٹھی مرے دل کا بھید ہی کھل گیا
میں سمجھ رہا تھا یہ اب تلک غم بے نشاں مرے ساتھ ہے

جو گئے دنوں پہ اٹھی نظر مرے دل نے خود یہ کہا مجھے
میں کسی طلسم کدے میں ہوں کوئی داستاں مرے ساتھ ہے

بڑی مدتوں کے بعد جو اب تری یاد آئی تو یوں لگا
سر دشت وحشت زندگی کوئی مہرباں مرے ساتھ ہے

یہی سوچ کر میں ہوں مطمئن تہی دست پھر بھی نہیں ہوں میں
مرے دوست گو کہ چلے گئے غم دوستاں مرے ساتھ ہے

کسی تال پر کسی تان پر مری روح آج ہے وجد میں
مرا وہم ہے کہ حقیقتاً کوئی نغمہ خواں مرے ساتھ ہے

یہ عجب رنگ مزاج ہے مگر اب یہی مجھے راس ہے
کبھی ڈھونڈھتا ہوں میں خود کو بھی کبھی اک جہاں مرے ساتھ ہے