EN हिंदी
مجھے دیر بھی ہو کیوں کر نہ حرم کی طرح پیارا | شیح شیری
mujhe dair bhi ho kyun kar na haram ki tarah pyara

غزل

مجھے دیر بھی ہو کیوں کر نہ حرم کی طرح پیارا

امجد نجمی

;

مجھے دیر بھی ہو کیوں کر نہ حرم کی طرح پیارا
تو یہاں بھی جلوہ آرا تو وہاں بھی جلوہ آرا

ہے عجیب یہ تماشا ہے عجیب یہ نظارا
مری آہوں کا شرارہ مرے آنسوؤں کا دھارا

وہ پیام شام غم ہو کہ نوید صبح عشرت
مجھے یہ بھی ہے گوارا مجھے وہ بھی ہے گوارا

یوں ہی مجھ کو ڈوبنے دو انہیں موج ہائے غم میں
کہ محیط غم کا شاید ابھی دور ہے کنارا

نہ فروغ روئے تاباں نہ نگاہ نور افشاں
مرے اضطراب دل سے مرا راز آشکارا

کوئی کیا سمجھ سکے گا یہ ہے فیض عشق جس نے
مجھے اس طرح بگاڑا مجھے اس طرح سنوارا

کوئی چیز بھی ہے قسمت کوئی شے بھی ہے مقدر
کہ میں اپنی کوششوں میں یہاں بار بار ہارا

یہ ہجوم ناامیدی یہ وفور نا مرادی
ہوں عجب مصیبتوں میں میں مصیبتوں کا مارا

مجھے علم اس کا کیا تھا مجھے کیا خبر تھی نجمیؔ
کہ مجھی کو پھونک دے گا مرے عشق کا شرارا