EN हिंदी
مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی | شیح شیری
mujhe baghban se gila ye hai ki chaman se be-KHabari rahi

غزل

مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی

قمر جلالوی

;

مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی
کہ ہے نخل گل کا تو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہی

مرا حال دیکھ کے ساقیا کوئی بادہ خوار نہ پی سکا
ترے جام خالی نہ ہو سکے مری چشم تر نہ بھری رہی

میں قفس کو توڑ کے کیا کروں مجھے رات دن یہ خیال ہے
یہ بہار بھی یوں ہی جائے گی جو یہی شکستہ پری رہی

مجھے علم تیرے جمال کا نہ خبر ہے تیرے جلال کی
یہ کلیم جانے کہ طور پر تری کیسی جلوہ گری رہی

میں ازل سے آیا تو کیا ملا جو میں جاؤں گا تو ملے گا کیا
مری جب بھی در بدری رہی مری اب بھی در بدری رہی

یہی سوچتا ہوں شب الم کہ نہ آئے وہ تو ہوا ہے کیا
وہاں جا سکی نہ مری فغاں کہ فغاں کی بے اثری رہی

شب وعدہ وہ جو نہ آ سکے تو قمرؔ کہوں گا یہ چرخ سے
ترے تارے بھی گئے رائیگاں تری چاندنی بھی دھری رہی