مجھے اب نیا اک بدن چاہیئے
اور اس کے لیے بانکپن چاہیئے
میں یہ سوچتا ہوں اثر کے لیے
صدا چاہیئے یا سخن چاہیئے
بھٹکنے سے اب میں بہت تنگ ہوں
زمیں قید کر لے وطن چاہیئے
نشے کے لیے اک نیا شیشہ ہو
اور اس میں شراب کہن چاہیئے
یہ آنکھیں یہ دل یہ بدن ہے ترا
تجھے اور کیا جان من چاہیئے
بہت ترش لگنے لگی زندگی
کوئی میٹھی میٹھی چبھن چاہیئے
غزل
مجھے اب نیا اک بدن چاہیئے
عبید صدیقی

