EN हिंदी
مجھ سے کہتے ہو کیا کہیں گے آپ | شیح شیری
mujhse kahte ho kya kahenge aap

غزل

مجھ سے کہتے ہو کیا کہیں گے آپ

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

;

مجھ سے کہتے ہو کیا کہیں گے آپ
جو کہوں گا تو کیا سنیں گے آپ

کیا بیان شب فراق کریں
نہ سنا ہے نہ اب سنیں گے آپ

نہیں کھلتا سبب تبسم کا
آج کیا کوئی بوسہ دیں گے آپ

ناصحا آپ خود ہی ناداں ہیں
کیا نصیحت مجھے کریں گے آپ

دم آخر یہ تھا مرے لب پر
کس پہ جور و ستم کریں گے آپ

ظلم کی کچھ بھی انتہا ہوگی
یا ہمیشہ ستم کریں گے آپ

منتظر ہیں تمہارے مدت سے
دیکھیے ہم سے کب ملیں گے آپ

درد نا گفتہ بہ ہو جب ساقی
وہ سنیں بھی تو کیا کہیں گے آپ