EN हिंदी
مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے | شیح شیری
mujh mast ko mai ki bu bahut hai

غزل

مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے

امیر مینائی

;

مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے
دیوانے کو ایک ہو بہت ہے

موتی کی طرح جو ہو خداداد
تھوڑی سی بھی آبرو بہت ہے

جاتے ہیں جو صبر و ہوش جائیں
مجھ کو اے درد تو بہت ہے

مانند کلیم بڑھ نہ اے دل
یہ درد کی گفتگو بہت ہے

بے کیف ہو مے تو خم کے خم کیا
اچھی ہو تو اک سبو بہت ہے

کیا وصل کی شب میں مشکلیں ہیں
فرصت کم آرزو بہت ہے

منظور ہے خون دل جو اے یاس
اپنے لیے آرزو بہت ہے

اے نشتر غم ہو لاکھ تن خشک
تیرے دم کو لہو بہت ہے

چھیڑے وہ مژہ تو کیوں میں روؤں
آنکھوں میں خلش کو مو بہت ہے

غنچے کی طرح چمن میں ساقی
اپنا ہی مجھے سبو بہت ہے

کیا غم ہے امیرؔ اگر نہیں مال
اس وقت میں آبرو بہت ہے