مجھ کو ساقی نے جو رخصت کیا مے خانے سے
خود مئے ناب چھلکنے لگی پیمانے سے
دیکھ کر حالت دل ان کو ترس آ ہی گیا
وہ بھی گھبرا سے گئے میرے تڑپ جانے سے
دیتے ہیں طعنۂ اصنام پرستی مجھ کو
سجدہ کرتے ہوئے جو نکلے ہیں مے خانے سے
آپ کے جاتے ہی آباد ہوئی بزم خیال
بن گئی اور بھی تقدیر بگڑ جانے سے
محتسب اب تجھے توبہ کا یقیں ہو کہ نہ ہو
ہم تو ٹکرا چکے پیمانے کو پیمانے سے
اپنا ہم مسلک و ہم راز کسے کہئے شکیلؔ
نظر اس بزم میں سب آتے ہیں بیگانے سے
غزل
مجھ کو ساقی نے جو رخصت کیا مے خانے سے
شکیل بدایونی

