EN हिंदी
مجھ کو ساقی نے جو رخصت کیا مے خانے سے | شیح شیری
mujhko saqi ne jo ruKHsat kiya mai-KHane se

غزل

مجھ کو ساقی نے جو رخصت کیا مے خانے سے

شکیل بدایونی

;

مجھ کو ساقی نے جو رخصت کیا مے خانے سے
خود مئے ناب چھلکنے لگی پیمانے سے

دیکھ کر حالت دل ان کو ترس آ ہی گیا
وہ بھی گھبرا سے گئے میرے تڑپ جانے سے

دیتے ہیں طعنۂ اصنام پرستی مجھ کو
سجدہ کرتے ہوئے جو نکلے ہیں مے خانے سے

آپ کے جاتے ہی آباد ہوئی بزم خیال
بن گئی اور بھی تقدیر بگڑ جانے سے

محتسب اب تجھے توبہ کا یقیں ہو کہ نہ ہو
ہم تو ٹکرا چکے پیمانے کو پیمانے سے

اپنا ہم مسلک و ہم راز کسے کہئے شکیلؔ
نظر اس بزم میں سب آتے ہیں بیگانے سے