EN हिंदी
مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد | شیح شیری
mujhko kya faeda gar koi raha mere baad

غزل

مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد

پروین ام مشتاق

;

مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد
ساری مخلوق بلا سے ہو فنا میرے بعد

مر چکا میں تو نہیں اس سے مجھے کچھ حاصل
برسے گر پانی کی جا آب بقا میرے بعد

چاہنے والوں کا کرتا ہے زمانہ ماتم
ماتمی رنگ میں ہے زلف رسا میرے بعد

روئیں گے مجھ کو مرے دوست سب آٹھ آٹھ آنسو
برسے گی قبر پہ گھنگھور گھٹا میرے بعد

یوں ہی کھلتی رہیں گی صحن چمن میں کلیاں
یوں ہی چلتی رہے گی باد صبا میرے بعد

جان دینے کو نہ ان پر کوئی تیار ہوا
گویا جاں باز زمانہ میں نہ تھا میرے بعد

ہاتھ سے ان کے ٹپکتے نہیں مے کے قطرے
اشک خوں روتا ہے یہ رنگ حنا میرے بعد

حشر تک کوئی نہ روکے گا ستم گاروں کو
جو خدا پہلے تھا وہ ہی ہے خدا میرے بعد

جیتے جی دیتے تھے جو گالیاں مجھ کو پرویںؔ
مغفرت کے لئے کرتے ہیں دعا میرے بعد