EN हिंदी
مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے | شیح شیری
mujhko duniya ke har ek gham se chhuDa rakkha hai

غزل

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے

فنا بلند شہری

;

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے
جلوۂ یار نے مدہوش بنا رکھا ہے

موت سے آپ کی الفت نے بچا رکھا ہے
ورنہ بیمار غم ہجر میں کیا رکھا ہے

عرصۂ حشر میں رسوائی یقینی تھی مگر
تیری رحمت نے ہر اک جرم چھپا رکھا ہے

منزل دیر و حرم چھوڑ کے اے جان جہاں
میں نے کعبہ تیری چوکھٹ کو بنا رکھا ہے

جذبۂ عشق میں تکمیل عبادت کے لئے
میں نے سر یار کے قدموں میں جھکا رکھا ہے

تیرے جلووں کی یہ شوخی ارے توبہ توبہ
ہوش موسیٰ کا سر طور اٹھا رکھا ہے