محیط پاک پہ موج ہنر میں روشن ہوں
میں اعتبار کف کوزہ گر میں روشن ہوں
میں حاشیہ ہوں ترے جلوہ زار حیرت کا
میں تیرے ساتھ ترے بام و در میں روشن ہوں
میں آپ اپنا اجالا ہوں شب کے دامن پر
میں آپ اپنی دعائے سحر میں روشن ہوں
بجھا سکے گی نہ مجھ کو ہوائے سود و زیاں
میں طاق ماحصل خیر و شر میں روشن ہوں
اٹھا کے لے گیا مجھ کو گروہ نعرہ کشاں
میں انقلاب کی جھوٹی خبر میں روشن ہوں
وہی ہے کہنگیٔ ظلمت خلا اور میں
نئی اڑان نئے بال و پر میں روشن ہوں
نہ جانے کب سے ہوں آتش بجاں تماشا کر
ترے لیے میں تری رہگزر میں روشن ہوں
چمک رہی ہے اداسی مرے حوالے سے
میں رمزؔ اب بھی کسی چشم تر میں روشن ہوں
غزل
محیط پاک پہ موج ہنر میں روشن ہوں
محمد احمد رمز

