EN हिंदी
مدتوں یہ سوچ کر تنہائی میں تڑپا کئے | شیح شیری
muddaton ye soch kar tanhai mein taDpa kiye

غزل

مدتوں یہ سوچ کر تنہائی میں تڑپا کئے

مشتاق نقوی

;

مدتوں یہ سوچ کر تنہائی میں تڑپا کئے
ہو گئے ہم سے جدا وہ اور ہم دیکھا کئے

ایک لمحہ میں جو کر بیٹھے ہیں دیوانے ترے
لوگ صدیوں اس کی لا محدودیت سمجھا کئے

کامیابی اپنے حصے میں کبھی تھی ہی نہیں
ہم نے ناکامی سے اپنے راستے پیدا کئے

بے وفائی اس کی میرے ساتھ مت شامل کرو
جرم ہم نے عشق میں جتنے کئے تنہا کئے

ہاتھ لگتے ہی بکھر جاتا ہے جن کا شوخ رنگ
عمر بھر ان تتلیوں کی کھوج میں بھاگا کئے