مدت کے بعد ایسی سنائی خبر مجھے
میں نامہ بر کو دیکھتا ہوں نامہ بر مجھے
محفل پہ اپنی ناز تمہیں موت پر مجھے
بس جاؤ اب نہ دیکھنا کل سے ادھر مجھے
سو راتیں ایک ہجر کی شب میں تمام کیں
جب آنکھ بند کی نظر آئی سحر مجھے
سادہ ورق جواب میں اک لا کے دے گیا
دیوانہ جانتا ہے مرا نامہ بر مجھے
ہاں تھی کبھی تمیز سیاہ و سفید میں
اور اب تو جیسی شام ہے ویسی سحر مجھے
ناوک کماں میں جوڑ کے کہتے ہیں ناز سے
ہاں کون کون کہتا ہے بیداد گر مجھے
منظرؔ یہ شور نوحہ غم نزع میں ہے کیوں
ناکامیوں کو روتے ہیں یا چارہ گر مجھے
غزل
مدت کے بعد ایسی سنائی خبر مجھے
منظر لکھنوی

