EN हिंदी
مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیا | شیح شیری
mubtala ye dil hua jab yar nanga ho gaya

غزل

مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیا

مرزا مسیتابیگ منتہی

;

مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیا
شمع بے پردہ ہوئی قرباں پتنگا ہو گیا

گر پڑے عشاق اس کی تیغ خوں آشام پر
کل شہادت کے طلب گاروں کا دنگا ہو گیا

دفن کر کے فاتحہ پڑھ کے مرا بولا وہ شوخ
آج بیمار محبت میرا چنگا ہو گیا

بزم میں جل کر کیا شب راز الفت آشکار
شمع کے مانند پروانہ بھی ننگا ہو گیا

گر کے اس کے کوچۂ‌‌ تاریک میں نکلا نہ دل
پیچ زلف یار کا مجھ کو اڑنگا ہو گیا

وصف دیر و کعبہ کا ہم نے جداگانہ کیا
ایک ہی مضمون تھا فقرہ دو رنگا ہو گیا

بڑھتے بڑھتے اپنا طول زندگانی کم ہوا
گھٹتے گھٹتے جامۂ ہستی اٹنگا ہو گیا

خوش نما ہے اس رخ روشن پہ کیا خال سیاہ
زیب گلزار ارم کا لا بھجنگا ہو گیا

شاہ ہفت اقلیم سے اے دل گدائے دہر تک
ڈھنگ سے آیا وہاں سے یاں کڈھنگا ہو گیا

جس قدر وہ مجھ سے بگڑا میں بھی بگڑا اس قدر
وہ ہوا جامہ سے باہر میں بھی ننگا ہو گیا

یوں کہیں گے یار اقلیم سخن میں ان دنوں
منتہیؔ بھی ایک ہی کٹا دبنگا ہو گیا