EN हिंदी
محبت منہ پہ کرنا اور دل میں بے وفائی ہے | شیح شیری
mohabbat munh pe karna aur dil mein bewafai hai

غزل

محبت منہ پہ کرنا اور دل میں بے وفائی ہے

میر سوز

;

محبت منہ پہ کرنا اور دل میں بے وفائی ہے
یہ آئینہ یہاں کہتا ہے کیسی آشنائی ہے

بھلا بوسہ ہم اس سے آج مانگیں گے کسی ڈھب سے
توقع تو نہیں لیکن یہ طالع آزمائی ہے

محبوں کو کریں ہیں قتل دشمن کو جلاتے ہیں
بتوں کی بھی میاں صاحب نرالی ہی خدائی ہے

عجائب رسم ہے ان دلبران دہر کی یا رب
کسی کے ساتھ جا سونا کہیں سائی بدھائی ہے

یہ عاشق اپنے اپنے اشک کو طوفان کہتے ہیں
جو سچ پوچھو تو یہ گنگا ہماری ہی کھدائی ہے

الٰہی کیا بنے گی ساتھ میرے شیخ و واعظ کو
ادھر رندی شرابی ہے ادھر کو پارسائی ہے

نہیں یہ ابر و باراں سوزؔ کے احوال کو سن کر
فلک کی بھی محبت سے یہ اب چھاتی بھر آئی ہے