EN हिंदी
محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتا | شیح شیری
mohabbat mein tapake-zahiri se kuchh nahin hota

غزل

محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتا

ہری چند اختر

;

محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتا
جہاں دل کو لگی ہو دل لگی سے کچھ نہیں ہوتا

یہ ہے جبر مشیت یا مری تقدیر ہے یا رب
سہارا جس کا لیتا ہوں اسی سے کچھ نہیں ہوتا

کوئی میری خطا ہے یا تری صنعت کی خامی ہے
فرشتے کہہ رہے ہیں آدمی سے کچھ نہیں ہوتا

ترے احکام کی دنیا مرے اعمال کا محشر
یہاں میری وہاں تیری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا

رضا تیری لکھا تقدیر کا میری زیاں کوشی
کسی کی دوستی یا دشمنی سے کچھ نہیں ہوتا