EN हिंदी
محبت ماسوا کی جس نے کی گوری کلوٹی کی | شیح شیری
mohabbat ma-siwa ki jis ne ki gori kaloTi ki

غزل

محبت ماسوا کی جس نے کی گوری کلوٹی کی

قاسم علی خان آفریدی

;

محبت ماسوا کی جس نے کی گوری کلوٹی کی
یقیں کیجو کہ کافر ہو کے اپنی راہ کھوٹی کی

محبت ماسوا اللہ کی ہر کفر سے بد تر
فقیروں نے قناعت تب تو برسیلی لنگوٹی کی

قناعت کا خزینہ گر کسی کے ہاتھ لگ جاوے
نہیں پرواہ رکھتا ہے کسی صراف سوٹی کی

دل قانع کے تئیں نان جویں خوشتر ز تر حلوہ
نہیں ہو احتیاج اس کو پلاؤ گوشت روٹی کی

جگر کھانے میں اپنے فائدہ از بس، تو کیا جانے
وہ جانے چاشنی چکھی ہو جس نے دل کی بوٹی کی

تن لاغر براہ عشق بہتر ہے بچا لا کے
کیا مضغے نے کیا حاصل اگرچہ شکل موٹی کی

اب اس دنیا میں دنیا چھوڑ کر رہنا ہی بہتر ہے
کہانی تھی بڑی لیک آفریدیؔ نے تو چھوٹی کی