EN हिंदी
محبت کا قرینا آ گیا ہے | شیح شیری
mohabbat ka qarina aa gaya hai

غزل

محبت کا قرینا آ گیا ہے

محمد منشاء الرحمن خاں منشاء

;

محبت کا قرینا آ گیا ہے
ہمیں مر مر کے جینا آ گیا ہے

بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں
دو عالم کا خزینہ آ گیا ہے

تری شادابیوں کا ذکر سن کر
گلوں کو بھی پسینہ آ گیا ہے

بھڑک اٹھتی ہے جس میں آگ دل کی
وہ ساون کا مہینہ آ گیا ہے

مسافر اب کہیں تو جا لگیں گے
تلاطم میں سفینہ آ گیا ہے

سمجھے بیٹھے ہیں خود کو رند کامل
جنہیں دو گھونٹ پینا آ گیا ہے

جنوں اب تک تھا منشاؔ چاک داماں
اب اس کو چاک سینا آ گیا ہے