محبت کا قرینا آ گیا ہے
ہمیں مر مر کے جینا آ گیا ہے
بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں
دو عالم کا خزینہ آ گیا ہے
تری شادابیوں کا ذکر سن کر
گلوں کو بھی پسینہ آ گیا ہے
بھڑک اٹھتی ہے جس میں آگ دل کی
وہ ساون کا مہینہ آ گیا ہے
مسافر اب کہیں تو جا لگیں گے
تلاطم میں سفینہ آ گیا ہے
سمجھے بیٹھے ہیں خود کو رند کامل
جنہیں دو گھونٹ پینا آ گیا ہے
جنوں اب تک تھا منشاؔ چاک داماں
اب اس کو چاک سینا آ گیا ہے
غزل
محبت کا قرینا آ گیا ہے
محمد منشاء الرحمن خاں منشاء

