محبت چاہتی ہے جس کو افسانہ بنا دینا
اسے کافی نہیں ہوتا ہے دیوانہ بنا دینا
پر گل سے جدا ہم نے نہ دیکھا برگ بلبل کو
نظر میں آ گیا صورت کو بے معنیٰ بنا دینا
ہوا تھا دل جو خالی دو گھڑی کو ہم نہ سمجھے تھے
کہ ہو جائے گا یہ کعبے کو بت خانہ بنا دینا
کسی نے بھی نہ دیکھا اضطراب تشنگی میرا
اگر دیکھا تو بس شیشے کو پیمانہ بنا دینا
نہیں اب چاہتا یہ وحشیٔ بے خانماں تیرا
کہ آنا اور خاک پا سے کاشانہ بنا دینا
کسی اک تیغ جوہر دار کو فاضل جلا دے کر
اسے آسان ہے بستی کو ویرانہ بنا دینا
ہم اپنی جان سے دیتے تمہیں صدقہ محبت کا
مگر تم نے تو چاہا اس کو جرمانہ بنا دینا
غزل
محبت چاہتی ہے جس کو افسانہ بنا دینا
محمد اعظم

