محبت بھی ہوا کرتی ہے دل بھی دل سے ملتا ہے
مگر پھر آدمی کو آدمی مشکل سے ملتا ہے
محبت جب مزہ دیتی ہے دل جب دل سے ملتا ہے
مگر مشکل یہی ہے دل سے دل مشکل سے ملتا ہے
سوائے یاس کیا اس سعیٔ بے حاصل سے ملتا ہے
ترا دل و ستم گر کب کسی کے دل سے ملتا ہے
عجب رقت فضا ہے آخری ملنے کا نظارہ
گلے لگ لگ کے بسمل خنجر قاتل سے ملتا ہے
سرائے دہر میں تانتا بندھا ہے کاروانوں کا
عدم کا اے وفاؔ رستہ اسی منزل سے ملتا ہے
غزل
محبت بھی ہوا کرتی ہے دل بھی دل سے ملتا ہے
میلہ رام وفاؔ

