EN हिंदी
محبت بھی ہوا کرتی ہے دل بھی دل سے ملتا ہے | شیح شیری
mohabbat bhi hua karti hai dil bhi dil se milta hai

غزل

محبت بھی ہوا کرتی ہے دل بھی دل سے ملتا ہے

میلہ رام وفاؔ

;

محبت بھی ہوا کرتی ہے دل بھی دل سے ملتا ہے
مگر پھر آدمی کو آدمی مشکل سے ملتا ہے

محبت جب مزہ دیتی ہے دل جب دل سے ملتا ہے
مگر مشکل یہی ہے دل سے دل مشکل سے ملتا ہے

سوائے یاس کیا اس سعیٔ بے حاصل سے ملتا ہے
ترا دل و ستم گر کب کسی کے دل سے ملتا ہے

عجب رقت فضا ہے آخری ملنے کا نظارہ
گلے لگ لگ کے بسمل خنجر قاتل سے ملتا ہے

سرائے دہر میں تانتا بندھا ہے کاروانوں کا
عدم کا اے وفاؔ رستہ اسی منزل سے ملتا ہے