مثل خنجر لسان رکھتے ہیں
ہاتھ بھر کی زبان رکھتے ہیں
ہم جلے تن دیا سلائی سے
سوختہ استخوان رکھتے ہیں
سر عزا کی خیر کعبے میں
پاؤں وہ بے تکان رکھتے ہیں
وہ نظر باز ہیں کہ آنکھوں میں
پتلیاں دید بان رکھتے ہیں
علم آہیں ہیں آبلے ڈنکے
ہم یہ نوبت نشان رکھتے ہیں
اے مسیحا جو تجھ سے دم ماریں
صنم اتنی بھی جان رکھتے ہیں
کیا ٹکیں ہم یہاں زمانے کو
چرخ میں آسمان رکھتے ہیں
تنگ دستی سے مر رہے ہیں ہزار
اور ہی آن بان رکھتے ہیں
راز دل سن نہ لے کوئی اے شادؔ
در و دیوار کان رکھتے ہیں
غزل
مثل خنجر لسان رکھتے ہیں
شاد لکھنوی

