EN हिंदी
مثال دست زلیخا تپاک چاہتا ہے | شیح شیری
misal-e-dast-e-zuleKHa tapak chahta hai

غزل

مثال دست زلیخا تپاک چاہتا ہے

احمد فراز

;

مثال دست زلیخا تپاک چاہتا ہے
یہ دل بھی دامن یوسف ہے چاک چاہتا ہے

دعائیں دو مرے قاتل کو تم کہ شہر کا شہر
اسی کے ہاتھ سے ہونا ہلاک چاہتا ہے

فسانہ گو بھی کرے کیا کہ ہر کوئی سر بزم
مآل قصۂ دل دردناک چاہتا ہے

ادھر ادھر سے کئی آ رہی ہیں آوازیں
اور اس کا دھیان بہت انہماک چاہتا ہے

ذرا سی گرد ہوس دل پہ لازمی ہے فرازؔ
وہ عشق کیا ہے جو دامن کو پاک چاہتا ہے