EN हिंदी
مری صبح خواب کے شہر پر یہی اک جواز ہے جبر کا | شیح شیری
meri subh-e-KHwab ke shahr par yahi ek jawaz hai jabr ka

غزل

مری صبح خواب کے شہر پر یہی اک جواز ہے جبر کا

غلام حسین ساجد

;

مری صبح خواب کے شہر پر یہی اک جواز ہے جبر کا
کہ مرے وجود کے باغ میں ابھی کوئی پھول ہے صبر کا

کسی بادبان کی اوٹ میں کہیں آسمان کے سامنے
یہ ضیا ہے مشعل خواب کی کہ کوئی چراغ ہے ابر کا

کسی صبح خواہش مرگ سے بھی نمود پاتی ہے زندگی
کسی شام اپنے وجود پر بھی گمان ہوتا ہے قبر کا

مری شمع نور کے اس طرف مری خاک سبز کے اس طرف
یہ نئی زمین ہے جبر کی یہ نیا گلاب ہے صبر کا

مرے آئنے سے جدا ہوا جو چراغ ہجر تو یہ کھلا
چمن ستارہ و رنگ میں بھی کہیں قیام ہے ابر کا