مری صبح خواب کے شہر پر یہی اک جواز ہے جبر کا
کہ مرے وجود کے باغ میں ابھی کوئی پھول ہے صبر کا
کسی بادبان کی اوٹ میں کہیں آسمان کے سامنے
یہ ضیا ہے مشعل خواب کی کہ کوئی چراغ ہے ابر کا
کسی صبح خواہش مرگ سے بھی نمود پاتی ہے زندگی
کسی شام اپنے وجود پر بھی گمان ہوتا ہے قبر کا
مری شمع نور کے اس طرف مری خاک سبز کے اس طرف
یہ نئی زمین ہے جبر کی یہ نیا گلاب ہے صبر کا
مرے آئنے سے جدا ہوا جو چراغ ہجر تو یہ کھلا
چمن ستارہ و رنگ میں بھی کہیں قیام ہے ابر کا
غزل
مری صبح خواب کے شہر پر یہی اک جواز ہے جبر کا
غلام حسین ساجد

