EN हिंदी
مری صفات کا جب اس نے اعتراف کیا | شیح شیری
meri sifat ka jab usne etiraf kiya

غزل

مری صفات کا جب اس نے اعتراف کیا

غلام مرتضی راہی

;

مری صفات کا جب اس نے اعتراف کیا
بجائے چہرہ کے آئینہ میں نے صاف کیا

چھپا تھا ہیرا کوئی راستے کے پتھر میں
ہماری ٹھوکروں نے اس کا انکشاف کیا

موافقت میں چلی تھی مرے سفینے کی
ہوا نے بیچ سمندر میں اختلاف کیا

گہر بنا کے صدف نے اسے نکالا ہے
کبھی جو بوند نے دریا سے انحراف کیا

زمین گھومتی ہے جیسے اپنے محور پر
خود اپنی ذات کا میں نے یوں ہی طواف کیا