EN हिंदी
مری جبیں کا مقدر کہیں رقم بھی تو ہو | شیح شیری
meri jabin ka muqaddar kahin raqam bhi to ho

غزل

مری جبیں کا مقدر کہیں رقم بھی تو ہو

رشید قیصرانی

;

مری جبیں کا مقدر کہیں رقم بھی تو ہو
میں کس کو سامنے رکھوں کوئی صنم بھی تو ہو

کرن کرن ترا پیکر کلی کلی چہرہ
یہ لخت لخت بدن اب کہیں بہم بھی تو ہو

مرے نصیب میں آخر خلا نوردی کیوں
مری زمیں ہے تو اس پر مرا قدم بھی تو ہو

ہر ایک شخص نے کتبہ اٹھا رکھا ہے یہاں
کسی کے ہاتھ میں آخر کوئی علم بھی تو ہو

گزار لمحے صحیفہ بدست اتریں گے
ترے نصیب میں فیضان چشم نم بھی تو ہو

بس اب تو چھیڑ دے اے مطربہ غزل کوئی
طرب کدے میں وہ شہزادئ الم بھی تو ہو

رشیدؔ لب پہ ہنسی ہے تو آنکھ نم کر لے
نئی خوشی کے مقابل پرانا غم بھی تو ہو