EN हिंदी
مرے قریب سے گزرا اک اجنبی کی طرح | شیح شیری
mere qarib se guzra ek ajnabi ki tarah

غزل

مرے قریب سے گزرا اک اجنبی کی طرح

شاہد عشقی

;

مرے قریب سے گزرا اک اجنبی کی طرح
وہ کج ادا جو ملا بھی تو زندگی کی طرح

ملا نہ تھا تو گماں اس پہ تھا فرشتوں کا
جو اب ملا ہے تو لگتا ہے آدمی کی طرح

کرن کرن اتر آئی ہے روزن دل سے
کسی حسیں کی تمنا بھی روشنی کی طرح

مری نگاہ سے دیکھو تو ہم زباں ہو جاؤ
کہ دشمنی بھی کسی کی ہے دوستی کی طرح

نہ ملنے والے کناروں کا نام ٹھہرا شوق
گریز پا ہے جہاں حسن اک ندی کی طرح

نہ کھل سکا تو لہو ہو کے بہہ گیا ہے دل
کبھی کھلا تو مہک اٹھے گا کلی کی طرح

ہزار شعر ہیں اور ایک خامشی کی ادا
ہزار رنگ ہیں اور ایک سادگی کی طرح

بہت دنوں میں ملے ہیں ہم آج عشقیؔ سے
نہیں وہ پھر بھی کوئی شخص ہے اسی کی طرح