EN हिंदी
مرے نقوش ترے ذہن سے مٹا دے گا | شیح شیری
mere nuqush tere zehn se miTa dega

غزل

مرے نقوش ترے ذہن سے مٹا دے گا

افتخار نسیم

;

مرے نقوش ترے ذہن سے مٹا دے گا
مرا سفر ہی مرے فاصلے بڑھا دے گا

اندھیری رات ہے اس تند خو سے مت کہنا
وہ روشنی کے لیے اپنا گھر جلا دے گا

میں اس کا سب سے ہوں پیارا مگر بچھڑتے ہی
وہ سب کو یاد کرے گا مجھے بھلا دے گا

بنا ہوا ہوں میں مجرم بغیر جرم کئے
اب اور کیا مرا منصف مجھے سزا دے گا

اگایا جس نے ہے بنجر زمیں میں تجھ کو نسیمؔ
ہے کیا بعید کہ وہ پھول بھی کھلا دے گا