EN हिंदी
مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہے | شیح شیری
mere har lafz ki tauqir rahne ke liye hai

غزل

مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہے

بخش لائلپوری

;

مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہے
میں زندہ ہوں مری تحریر رہنے کے لیے ہے

ستم گر نے جو پہنائی مرے دست طلب میں
یہ مت سمجھو کہ وہ زنجیر رہنے کے لیے ہے

مرا آئینۂ تصنیف دیتا ہے گواہی
مرا ہر نقطۂ تفسیر رہنے کے لیے ہے

رہے گا تو نہ تیرا ظلم پر روز ابد تک
ہمارے درد کی جاگیر رہنے کے لیے ہے

جسے میری نگاہوں نے کبھی دیکھا نہیں ہے
مرے دل میں وہی تصویر رہنے کے لیے ہے

سر باطل کیا دو لخت جس نے بھی جہاں میں
سلامت بس وہی شمشیر رہنے کے لیے ہے

جنون شوق تخریب جہاں مٹ کر رہے گا
مگر ہر جذبۂ تعمیر رہنے کے لیے ہے

نہ لکھا شعر کوئی اور سمجھ بیٹھے ہیں ناداں
ادب میں حربۂ تشہیر رہنے کے لیے ہے

گزر جائیں گے ہم دار فنا سے بخشؔ لیکن
ہمارے شعر کی تاثیر رہنے کے لیے ہے