EN हिंदी
مرے گھر میں نہ ہوگی روشنی کیا | شیح شیری
mere ghar mein na hogi raushni kya

غزل

مرے گھر میں نہ ہوگی روشنی کیا

سوپنل تیواری

;

مرے گھر میں نہ ہوگی روشنی کیا
نہیں آؤ گے اس جانب کبھی کیا

چہکتی بولتی آنکھوں میں چپی
انہیں چبھنے لگی میری کمی کیا

خود اس کا رنگ پیچھا کر رہے ہیں
کہیں دیکھی ہے ایسی سادگی کیا

لپٹتی ہیں مرے پیروں سے لہریں
مجھے پہچانتی ہے یہ ندی کیا

میں اس شب سے تو اکتایا ہوا ہوں
سحر دے پائے گی کچھ تازگی کیا

تری آہٹ کی دھوپ آتی نہیں ہے
سماعت بھی مری کمھلا گئی کیا

خموشی برف سی آتشؔ جمی تھی
نظر کی آنچ سے وہ گل گئی کیا