EN हिंदी
مرے چاروں طرف یہ سازش تسخیر کیسی ہے | شیح شیری
mere chaaron taraf ye sazish-e-tasKHir kaisi hai

غزل

مرے چاروں طرف یہ سازش تسخیر کیسی ہے

سلطان اختر

;

مرے چاروں طرف یہ سازش تسخیر کیسی ہے
لرزتا رہتا ہوں یا رب تری تعمیر کیسی ہے

کبھی تو پوچھتی مجھ سے سبب میری اداسی کا
ہمیشہ ہنستی رہتی ہے تری تصویر کیسی ہے

اگر اس کے کرم کی دھوپ سے محروم رہتا ہوں
تو پھر یہ خانۂ دل میں مرے تنویر کیسی ہے

ہم اپنے آپ میں آزاد ہیں لیکن خداوندا
ہمارے دست و پا میں وقت کی زنجیر کیسی ہے

بچاتا ہے مجھے تیر و سناں سے کون روز و شب
جو مجھ کو کاٹتی رہتی ہے وہ شمشیر کیسی ہے

خلاؤں میں منور چار جانب عکس ہے کس کا
جو سطح آب پر روشن ہے وہ تصویر کیسی ہے

اگر تجھ سے مری آوارگی دیکھی نہیں جاتی
تو پھر پامال کرنے میں مجھے تاخیر کیسی ہے

ٹھہرتا ہی نہیں اخترؔ کوئی لمحہ مسرت کا
گزرتی ہی نہیں یہ ساعت دلگیر کیسی ہے